ڈبروگڑھ،30 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات میں تابڑ توڑ ریلیاں کر رہے مودی آج اروناچل پردیش اور آسام پہنچے۔آسام کے ڈبروگڑھ میں ریلی کے دوران پی ایم مودی نے کہا کہ مرکز کی حکومت ترقی کے کام میں مصروف ہے۔لیکن کانگریس چوکیدار سے نفرت کی بات کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کو چوکیدار سے تو نفرت ہے ہی ساتھ ہی چائے والوں سے بھی نفرت کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ چائے کے کاروبار سے جڑے ہوئے لوگ 70 سالوں سے غربت کے شکار ہیں۔پی ایم مودی نے کہا کہ چائے والوں کا درد ایک چائے والا ہی سمجھ سکتا ہے۔اس دوران انہوں نے کسانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چائے والوں کے اکاؤنٹ میں ہر سال 6 ہزار روپے ڈالے جا رہے ہیں جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔پی ایم مودی نے کہا کہ نارتھ ایسٹ کے لوگوں کی زندگی کو آسان بنانے کے لئے کام کئے جا رہے ہیں۔لیکن کانگریس کی بدعنوانی کی وجہ سے وہ غفلت کے شکار ہو رہے تھے کیونکہ کانگریس بدعنوانی میں ماسٹر ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں بیٹھی موجودہ حکومت نے صرف پرانے پروجیکٹس کو تیزی سے کیا بلکہ نئے پروجیکٹس کی بھی شروعات کی۔پی ایم نریندر مودی نے دعوی کیا کہ آسام اور شمال مشرقی میں مرکزی حکومت نے کئی کام کئے اور لوگوں کو روزگار دینے کے لئے کافی اقدامات کئے گئے۔یہاں پر صرف تیل اور گیس کے لئے نہیں بلکہ اور دوسرچیزوں میں بھی کام کئے گئے ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ آسام معاہدے کے تحت آسام کی تمام قبائل کی حفاظت کا انتظام کیا گیا ہے۔لوگوں سے 11 اپریل کو ہونے والے ووٹنگ میں بی جے پی کے لئے ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تہوار میں اپنی زیادہ سے زیادہ شرکت دیں۔بھیڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ اس سے اپوزیشن کو پیغام چلا گیا ہے کہ اب کی بار پھر مودی حکومت آنے والی ہے۔انہوں نے 70 سالوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ جو کانگریس کی اور دوسری حکومتیں نہیں کر پائیں وہ کام اس حکومت نے پانچ سال میں کرکے دکھا دیا۔انہوں نے ایسے ہی کاموں کو آگے بڑھانے اور نئے کام کرنے کے لئے لوگوں سے ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔